عجب حسرت سے تکتے ہیں نگر کے بند در مجھ کو

Dawood Kashmiri

عجب حسرت سے تکتے ہیں نگر کے بند در مجھ کو

چلا جاتا ہوں لے جاتی ہے تنہائی جدھر مجھ کو

سمجھتے ہیں وہ لیڈر یا کوئی درویش مستانہ

کوئی کھینچے ادھر مجھ کو کوئی کھینچے ادھر مجھ کو

کیوں اک منزل پہ ٹھہرا ہوں ہے یہ اصرار بے معنی

کوئی مجھ سے تو پوچھے آخرش جانا کدھر مجھ کو

میں کتنی دور آ پہنچا ہوں اندازے سے کیا حاصل

صدا لگتی ہے خاموشی بلائے لاکھ گھر مجھ کو

میں سادہ لوح میں ناواقف جرم و سزا پھر بھی

نہ جانے کس لئے ڈھونڈے ہے یہ سارا نگر مجھ کو