جسم کے خول میں اک شہر انا رکھا ہے

Ibn-e-Ummeed

جسم کے خول میں اک شہر انا رکھا ہے

نام جیون کا تبھی ہم نے سزا رکھا ہے

ہم مکینوں کو نہیں کوئی خوشی سے مطلب

فیصلہ شہر کے والی نے سنا رکھا ہے

خوشیاں جا بیٹھیں کہیں اونچی سی اک ٹہنی پر

دل کے بہلانے کو اک لفظ قضا رکھا ہے

آنکھوں میں خواب چبھن سونے نہیں دیتی ہے

ایک مدت سے ہمیں تو نے جگا رکھا ہے

جن کو انسان بھی کہنا نہیں جچتا فرخؔ

ان کو معبود زمانے نے بنا رکھا ہے