جہاں سے الگ اک جہاں چاہتا ہوں

Kafeel Anwar

جہاں سے الگ اک جہاں چاہتا ہوں

زمیں اور نیا آسماں چاہتا ہوں

اندھیرے مجھے راس آنے لگے ہیں

کہ میں روشنی کا زیاں چاہتا ہوں

کہیں ظلم ہو لوگ آواز اٹھائیں

کہ میں سب کے منہ میں زباں چاہتا ہوں

مرے دل کو بھاتی ہیں امواج سرکش

سمندر ہوں کوہ گراں چاہتا ہوں