وہ کیا گیا مسلط مرا حال دیکھنے کو

Kafeel Anwar

وہ کیا گیا مسلط مرا حال دیکھنے کو

کہ عروج زندگانی کا زوال دیکھنے کو

یہ عجیب مسئلہ ہے مرے اس کے درمیاں بھی

وہ جواب لے کے آیا ہے سوال دیکھنے کو

تو بدل کے اپنا چہرہ بڑا شادماں ہے لیکن

کوئی آئنہ تو رکھ لے خد و خال دیکھنے کو

جہاں کل بسا ہوا تھا مرا شہر اب ہے ملبہ

مجھے اس نے زندگی دی یہ وبال دیکھنے کو

نہ تو داد کی تمنا نہ تو شہرتوں کی خواہش

مرا فن ہی آئنہ ہے یہ کمال دیکھنے کو

جو کھڑا ہوا ہے انورؔ لئے سنگ میرے آگے

وہ ہے مضطرب لہو کا یہ ابال دیکھنے کو