جہاں میں کوئی تمہارا جواب ہو نہ سکا

Kafeel Anwar

جہاں میں کوئی تمہارا جواب ہو نہ سکا

ستارا لاکھ بڑھا آفتاب ہو نہ سکا

خوشی کے چند ہی لمحے تھے گن لئے لیکن

غم جہاں کا کسی سے حساب ہو نہ سکا

یہاں تو چاروں طرف پتھروں کی بارش تھی

کوئی بھی سنگ نشانہ مآب ہو نہ سکا

قصور اس کو سمجھئے مری بصارت کا

وہ بے لباس رہا بے حجاب ہو نہ سکا

مرے لہو نے بہاروں کو تازگی دے دی

فسردہ ان کے لبوں کا گلاب ہو نہ سکا

اسے سمجھنا تو ممکن نہیں ہے اے انورؔ

وہ ایک چہرہ جو دل کی کتاب ہو نہ سکا