میری وفا مقیم ہے گرد و غبار میں

Dawood Kashmiri

میری وفا مقیم ہے گرد و غبار میں

آہستہ چلنا باد صبا کوئے یار میں

ہم ہیں فریب خوردہ مگر بے خبر نہیں

مفہوم زندگی ہے فقط اعتبار میں

روٹی تو رشتہ بن نہ سکی کوئی دیس ہو

ایسی محبتیں تو ہیں اپنے دیار میں

ہر شخص مضطرب ہے ہر اک شخص بے قرار

حاصل سکوں توکل پروردگار میں

سچ کہہ کے کیا گناہ کیا سوچتے ہیں اب

رشتے تمام قطع ہوئے ایک بار میں