زیست میں تاریکیاں بڑھتی گئیں

Gauhar Seema

زیست میں تاریکیاں بڑھتی گئیں

لمحہ لمحہ سسکیاں بڑھتی گئیں

بے زبان جب ہو گئی یہ زندگی

ذہن میں سرگوشیاں بڑھتی گئیں

خواہشوں کے پھول مرجھانے لگے

پھر مری یہ ہچکیاں بڑھتی گئیں

زخم کھا کر مسکراتے ہی رہے

دل کی یہ خاموشیاں بڑھتی گئیں

سوچتے ہی سوچتے گزرا سفر

خواب کی سرمستیاں بڑھتی گئیں