ہم کو ہے جس کی طلب وہ یار ملتا ہی نہیں
عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتیہم کو ہے جس کی طلب وہ یار ملتا ہی نہیں
دل چرا کے لے گیا دل دار ملتا ہی نہیں
میری جانب سے خدا جانے عدو نے کیا کہا
اس قدر جو ہو گیا بیزار ملتا ہی نہیں
زلف جاناں کی بلائیں لوں کبھی رخ پر نثار
کاش مل جائے کہیں اک بار ملتا ہی نہیں
ملتا جلتا رہتا تھا ہر وقت وہ اب تو عزیزؔ
آہ ایسی ہو گئی تکرار ملتا ہی نہیں