Poetry
Poet
Meter
- تمام وحشتیں میری بڑھا کے چھوڑ گیاوہ مجھ کو صحرا میں دریا دکھا کے چھوڑ گیاKalicharan Singh
- جانے کیا درمیان ٹوٹ گیاچھت تو ہے پر مکان ٹوٹ گیاKalicharan Singh
- دیار یاد میں لانی پڑی تری تصویرپھر آنسوؤں سے بنانی پڑی تری تصویرKalicharan Singh
- فلک کی رہنمائی دے رہے ہیںپرندے کو رہائی دے رہے ہیںKalicharan Singh
- ہم یہاں غم سے ہیں دو چار کہیں اور چلیںآپ بھی دکھتے ہیں بیمار کہیں اور چلیںKalicharan Singh
- آنسو پینا اور مسکانا اچھا لگتا ہےچٹانوں سے سر ٹکرانا اچھا لگتا ہےM. J. Khalid
- آنسوؤں کے پھول پھل کا ذائقہ کچھ اور تھادرد کی شاخوں پہ کھلنے کا مزا کچھ اور تھاM. J. Khalid
- اپنی چپ میں وہ شان سمجھے ہےدل غموں کی زبان سمجھے ہےM. J. Khalid
- شعور زندہ ہے میرا نظر سلامت ہےتری دعا کا ابھی تک اثر سلامت ہےM. J. Khalid
- صبح کس کی ہے شام کس کی ہےزندگی زیر دام کس کی ہےM. J. Khalid
- گل مہر کی چھاؤں کا قصہ لکھوںیا پھر اپنی ذات کا نوحہ لکھوںM. J. Khalid
- خوابوں میں مصروف ہے تو پر میری یہ بیداری دیکھمیری راتوں کی سیاہی میں رنگ خوں کو طاری دیکھMadhuvan Rishi Raj
- دل کو خود دل بر سے خطرہگھر کو اب ہے گھر سے خطرہMadhuvan Rishi Raj
- قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہےجہاں جاتا ہے خوں کا اک سمندر چھوڑ جاتا ہےMadhuvan Rishi Raj
- کھلی لاشوں کا قبرستان بن کےبہت چپ ہے زمیں ویران بن کےMadhuvan Rishi Raj
- مرا ماضی ہے اک ہتھیار میراطماچہ موت کا ہر وار میراMadhuvan Rishi Raj
- میری اس دیوانگی کی اپنی اک رفتار ہےعشق میں ہر آدمی کی اپنی اک رفتار ہےMadhuvan Rishi Raj
- تم کو اگر ہماری محبت نہیں رہیہم کو بھی اب عدو سے عداوت نہیں رہیمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- چمکے ہیں سب کے بخت تری جلوہ گاہ میںواں کچھ نہیں تمیز سفید و سیاہ میںمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- روٹھو گے بے سبب تو منایا نہ جائے گابے جا تمہارا ناز اٹھایا نہ جائے گامنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- مدعا گریہ سے کچھ عشق کا اظہار نہیںکیا کہوں تم سے کہ کہنے میں دل زار نہیںمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- ہر دم شگفتہ تر جو ہنسی میں دہن ہواغنچہ سے پہلے گل ہوا گل سے چمن ہوامنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- ہم ڈھونڈتے ہیں باغ میں اس گلعذار کوجلوہ نے جس کے رنگ دیا ہے بہار کومنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- اداس کمرے کے کونے کونے میں جیسے غصہ پڑا ہوا ہےیہ کپ میں چائے نہیں ہے پرسوں سے ایک لمحہ پڑا ہوا ہےNaeem Naaz
- اسے چھپا لیا تھا میں نے آنکھ میںیہ لوگ خواب میں بھی جھانکنے لگےNaeem Naaz
- عجیب منطق ہے اس کو سوچیں گے خوش رہیں گےہم اپنی آنکھوں میں دھول جھونکیں گے خوش رہیں گےNaeem Naaz
- کوئی رشتہ ترے پیمان سے جوڑا جائےاب مرے ہجر کو عنوان سے جوڑا جائےNaeem Naaz
- ہوا بدن میں کسی یاد کی چلی جب بھیمجھے لگا مجھے چھو کر گزر گیا ہے کوئیNaeem Naaz
- یہ کینوس پہ جو زرد چہرہ بنا رہے ہیںتمہیں خبر ہو خزاں کا نقشہ بنا رہے ہیںNaeem Naaz
- اس تیرہ سرزمیں سے مثال قمر چلودیکھو فراز نور و نشیب سفر چلوQaisar Qalandar
- اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہےمحرومی کے صدمے سہنا تیری میری عادت ہےQaisar Qalandar
- اے ہم نفسو درد کی یہ رات کڑی ہےسر تھامے ہوئے دل میں کہیں آس کھڑی ہےQaisar Qalandar
- تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہامیں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھاQaisar Qalandar
- جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میںاک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہا تنہا جینے میںQaisar Qalandar
- یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیاسرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیاQaisar Qalandar
- آدمی وہ بھلا نہیں ہوتاجس کا دل آئنہ نہیں ہوتاQamar Gwaliari
- انسان کو انساں سے کچھ کام نہیں ہوتادنیا میں محبت کا جب نام نہیں ہوتاQamar Gwaliari
- پناہ ڈھونڈ رہا ہے ہر اک مکاں کی طرفکہ بچہ دوڑ کے آتا ہے جیسے ماں کی طرفQamar Gwaliari
- پھر جلا کوئی آشیاں صاحبپھر فضا ہے دھواں دھواں صاحبQamar Gwaliari
- کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑاکیوں مانگتے ہیں لوگ دعا سوچنا پڑاQamar Gwaliari
- لوگ پھرتے ہیں در بدر تنہاہو گیا کیا ہر ایک گھر تنہاQamar Gwaliari
- اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایاعرفاں کے ملک دیں پر حق سوں برات پایاقربی ویلوری
- خدا ہونا بی مشکل ہے بندہ ہونا بی مشکل ہےسمجھتا ہے یو نکتے کوں جو عارف صاحب دل ہےقربی ویلوری
- کم نگاہی ہور تغافل مت کر اے ماہ تماممک ترا کرتا ہے غمزہ کام عاشق کا تمامقربی ویلوری
- ماہ من شمع تمن دل کے شبستان میں آنور دیدہ ہو میری چشم کے ایوان میں آقربی ویلوری
- نہ ترا اے نگار بہتر ہےرخ پہ لہو کا نکھار بہتر ہےقربی ویلوری
- یک رات میں گیا تھا رنداں کے انجمن میںبولے کہ اے ہوائی یو نکتہ رک تو من میںقربی ویلوری
- آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیںڈرتا ہوں لے اڑے نہ کسی کی نظر کہیںRaj Bahadur Saxena Auj
- قدر وفا بھی ہوگی کسی دن جفا کے بعدلائے گا رنگ خون شہیداں حنا کے بعدRaj Bahadur Saxena Auj
- کس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیںشمع میں سوز زیادہ ہے کہ پروانے میںRaj Bahadur Saxena Auj