اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہا
Ghazal Ansariاب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہا
سب غیر ہیں کوئی بھی ہمارا نہیں رہا
اغیار کی نظر میں رہے مثل خار ہم
اب جینا جاگنا بھی ہمارا نہیں رہا
صوبائی عصبیت نے کھلائے کچھ ایسے گل
اب بھائی بھائی کا بھی سہارا نہیں رہا
اب تو ہماری ناؤ ہے طغیانیوں کے بیچ
نزدیک و دور کوئی کنارا نہیں رہا
خون جگر سے سینچا تھا ہم نے جو اک شجر
ہاں اب تو وہ شجر بھی ہمارا نہیں رہا
چن چن کے تنکے ہم نے بنایا تھا آشیاں
یہ کیا غضب وہ گھر بھی ہمارا نہیں رہا
ماضی کی کچھ حسین سی یادیں ہی رہ گئیں
آنکھوں میں اور کوئی نظارہ نہیں رہا
اہل چمن یہ کہتے ہیں آگے بڑھوں غزلؔ
اب کوئی حق چمن یہ تمہارا نہیں رہا