بھلانا ہے بہت مشکل مگر پھر بھی بھلانا ہے

Ghazal Ansari

بھلانا ہے بہت مشکل مگر پھر بھی بھلانا ہے

تری یادوں کو دل سے اب تو ہر صورت مٹانا ہے

بہت رسوائیاں سہہ لیں دل برباد کی خاطر

مگر الفت پنپ سکتی نہیں ایسا زمانہ ہے

مرا دامن پکڑ لیتی ہیں وہ معصوم سی یادیں

مرے جیون میں تیری یاد ہی واحد خزانہ ہے

تو آنکھوں میں تو یادوں میں تو ہر دم میرے خوابوں میں

کھلے جب آنکھ تو ہر سو وہی منظر پرانا ہے

ملائے عشق جو رب سے غزلؔ ہے عشق وہ سچا

خدا سے لو لگا لے پھر نہیں کچھ یاد آنا ہے