بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیں

Ghazal Ansari

بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیں

ہم بنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیں

شکر ہے اتنے سمجھ دار ہوئے ہیں بچے

راجا رانی کی کہانی سے نکل آئے ہیں

آئنہ دیکھ کے حیران ہوا ہے کیا کیا

آنکھ جھپکی تو جوانی سے نکل آئے ہیں

کینہ رکھ کر تو ملا کرتا تھا ہم سے اکثر

ہم تری چرب زبانی سے نکل آئے ہیں

سن لے اے ہم کو تن آسان سمجھنے والے

ہم دبے پاؤں کہانی سے نکل آئے ہیں

ہم کہ ہجرت کے عذابوں سے گزرنے والے

آخرش نقل مکانی سے نکل آئے ہیں

آپ کے نقش مٹانے کی سعی لا حاصل

آپ پھر میری کہانی سے نکل آئے ہیں

زندگی اب نئی الجھن میں نہ الجھا ہم کو

ہم تری شعلہ بیانی سے نکل آئے ہیں

کس طرح آئے یقیں اب تری باتوں پہ غزلؔ

ہم تری شوخ بیانی سے نکل آئے ہیں