نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنا

Ghazal Ansari

نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنا

یہ التجا ہے ہماری تم سے تم اپنے دل کو سنبھال رکھنا

وہ شام غم جو گزاری ہم نے کوئی گزارے تو جان پائے

کٹھن ہے کتنا ہے کیسا مشکل اٹھا کے ماضی میں حال رکھنا

کوئی صحیفہ سمجھ کے رکھا تمہارے خط کو چھپا کے دل میں

مری محبت کو اپنے دل میں ہمیشہ تم لا زوال رکھنا

تمہی کو چاہا تمہی کو پوجا تمہی کو دل میں سجا کے رکھا

یہی ہے شیوہ یہی وطیرہ نظر میں تیرا جمال رکھنا

اجالا کرتے تمہارے گھر میں جو بس میں ہوتا غزلؔ ہمارے

دعا ہماری ہے عمر ساری خودی کو تم با کمال رکھنا