ایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہو
Ghazal Ansariایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہو
پھر توقع کہ محبت بھی کڑی ثابت ہو
کیوں بچھاتے ہو مری راہ میں لفظی کانٹے
دو وہ پیغام جو موتی کی لڑی ثابت ہو
تیری شمشیر کا شاخ گل الفت پہ ہو وار
کیسے ممکن کہ وہ پھولوں کی چھڑی ثابت ہو
بے نیازی تری بڑھتی ہی رہی روز و شب
تیری فرقت میں کوئی اچھی گھڑی ثابت ہو
موت آنی ہے تو آ جائے کسی دن لیکن
زندگی بھی کبھی راہوں میں پڑی ثابت ہو
کاش آ جائے یقیں میری محبت کا تجھے
میری چاہت تری ہر شے سے بڑی ثابت ہو
روٹھ کر جب میں چلوں راہ عدم کی جانب
راہ روکے تری آواز کھڑی ثابت ہو
دل میں چاہت ہے غزلؔ صرف تجھے پانے کی
کوئی تو وصل کی انمول گھڑی ثابت ہو