بندہ پتلا خطا کا ہوتا ہے

Ibn-e-Ummeed

بندہ پتلا خطا کا ہوتا ہے

مسئلہ تو انا کا ہوتا ہے

وہی مستول ڈھیلا کرتے ہیں

جن پہ تکیہ بلا کا ہوتا ہے

ہم یونہی خواب بنتے رہتے ہیں

کھیل سارا قضا کا ہوتا ہے

سوختہ تن کی راکھ پر شاید

ظلم باقی ہوا کا ہوتا ہے

جس کو شبنم ملے نہ حصے کی

پھول وہ ادھ کھلا سا ہوتا ہے