Poetry
Poet
Meter
- اے غم تجھی سے کیوں نہ خوشی مستعار لوںدو دن کی زندگی ہے تو ہنس کر گزار لوںIbrahim Faiz
- بدلا ہوا سا رنگ گلستاں ہے ان دنوںہم پر بہار تو ترا احساں ہے ان دنوںIbrahim Faiz
- جاگتے جاگتے عمر بسر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہےپل میں شب فرقت کی سحر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہےIbrahim Faiz
- دل کے سب ارمان گئےگھر کے سب مہمان گئےIbrahim Faiz
- دور دنیا سے تیرگی ہوگیدل جلے گا تو روشنی ہوگیIbrahim Faiz
- کب ہوئی ختم رات یاد نہیںکیا ہوئی ان سے بات یاد نہیںIbrahim Faiz
- کیوں نہ تڑپا دے جہاں کو سوختہ جانوں کی باتمضطرب کرتی ہے انسانوں کو انسانوں کی باتIbrahim Faiz
- آئنہ پھر نکھر گیا ہے کیامیرا چہرہ اتر گیا ہے کیاLokesh Kumar Singh
- اپنی سانسوں سے ہم ڈرے کتنےزندگی کے لئے مرے کتنےLokesh Kumar Singh
- اترتی کیوں یہ ساری جا رہی ہےکہاں میری خماری جا رہی ہےLokesh Kumar Singh
- اس کے کھلتے ہی ہر اک سمت اجالا ہوگایہ تبسم ہے اسے درد نے پالا ہوگاLokesh Kumar Singh
- جسم کے اس غار میں دکھتا ہے سبریت کے انبار میں دکھتا ہے سبLokesh Kumar Singh
- سکھوں کی آس ہے کب سے مگر نہیں آتےمیں وہ درخت ہوں جس پر ثمر نہیں آتےLokesh Kumar Singh
- کیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میںبھر چکے زخم کی دوا ہوں میںLokesh Kumar Singh
- یہ تمنا ہے کہ میں حرف وفا ہو جاؤںمیری باتیں رہیں بے شک میں فنا ہو جاؤںLokesh Kumar Singh
- پل خوشی کے تو کبھی آنکھ میں پانی دے گاوقت ہر روز نئی ایک کہانی دے گاMadhu Madhuman
- پہاڑوں سے راہ سفر پر اکیلےنکلتے ہیں دریا سراسر اکیلےMadhu Madhuman
- پیرہن جسم پہ اور منہ میں نوالا ہوتاکاش ہر شخص کے آنگن میں اجالا ہوتاMadhu Madhuman
- چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئیہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئیMadhu Madhuman
- کچھ اس قدر طویل تھا وہ دور انتظار کاکہ رفتہ رفتہ بجھ گیا چراغ دل میں پیار کاMadhu Madhuman
- کسی کی خامیوں کا تذکرہ نہیں کرتےیوں اپنے آپ کو چھوٹا کیا نہیں کرتےMadhu Madhuman
- ماضی کے گلستاں میں جب لے چلیں گی آنکھیںلمحوں کی خوشبوؤں سے مہکا کریں گی آنکھیںMadhu Madhuman
- ہم نے خود کو کبھی بیزار نہیں ہونے دیااپنی امید کو مسمار نہیں ہونے دیاMadhu Madhuman
- اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کاگاہ عابد ہوں خدا کا گہہ پجاری رام کامیاں داد خاں سیاح
- ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہےہم کو محرم اور رقیبوں کو عید ہےمیاں داد خاں سیاح
- جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکاپھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکامیاں داد خاں سیاح
- قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دوخوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دومیاں داد خاں سیاح
- کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہےطائر دل قفس تن میں جو گھبراتا ہےمیاں داد خاں سیاح
- نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تکمکاں ڈھونڈ آئے اس کا لا مکاں تکمیاں داد خاں سیاح
- ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاشجس طرح تھی کلیم کو دیدار کی تلاشمیاں داد خاں سیاح
- کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلاگماں ہوا مرے ویرانہ میں ہما نکلامیاں داد خاں سیاح
- خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتامجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتامخمور دہلوی
- دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتیوہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتیمخمور دہلوی
- دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتاجہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتامخمور دہلوی
- رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرفآنے والے آ رہے ہیں اپنی منزل کی طرفمخمور دہلوی
- کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتایہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتامخمور دہلوی
- ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہےخیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہےمخمور دہلوی
- یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتےترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتےمخمور دہلوی
- تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگیجسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیںمخمور دہلوی
- بے خودی آج رنگ لائی ہےبات دل کی زباں پہ آئی ہےPaikar Jafari
- جستجوئے بہار کرتا ہوںدل کو خود شرمسار کرتا ہوںPaikar Jafari
- چراغ دل جلایا کس لئے ہے شام سے پہلےخوشی اچھی نہیں ہے عشق میں انجام سے پہلےPaikar Jafari
- سوز دل سوز جگر سوز الم پایا ہےجو بھی پایا ہے ترے عشق میں کم پایا ہےPaikar Jafari
- شب وصل ہم مختصر دیکھتے ہیںادھر آنکھ جھپکی سحر دیکھتے ہیںPaikar Jafari
- نظر کو وقف غم انتظار کر نہ سکےخود اپنی ذات پہ ہم اعتبار کر نہ سکےPaikar Jafari
- یوں بھی نباہ ہم نے کیا زندگی کے ساتھاک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھPaikar Jafari
- یوں تو محروم کوئی بزم میں مے خوار نہیںہاں مگر میری طرف چشم فسوں کار نہیںPaikar Jafari
- جیسا سنا تھا ویسا ہےوہ مجھ سے بھی اچھا ہےPaikar Yazdani
- صورت کے تو اچھے لوگلیکن دل کے کالے لوگPaikar Yazdani
- کنکر کہہ نہ پتھر کہہگوہر ہے تو گوہر کہہPaikar Yazdani