جیسا سنا تھا ویسا ہے

Paikar Yazdani

جیسا سنا تھا ویسا ہے

وہ مجھ سے بھی اچھا ہے

پیار کی باتیں کرتا ہے

شاید کوئی پگلا ہے

اس کی بات نہ رد ہوگی

اس کے پاس تو پیسہ ہے

میرے دشمن کا لہجہ

آم کے جیسا میٹھا ہے

اپنی منزل دور نہیں

میل کا پتھر کہتا ہے

غیروں جیسی بات نہ کر

تو تو میرا اپنا ہے

آگ اور پانی کا رشتہ

کیا پیکرؔ ہو سکتا ہے