سکھوں کی آس ہے کب سے مگر نہیں آتے
Lokesh Kumar Singhسکھوں کی آس ہے کب سے مگر نہیں آتے
میں وہ درخت ہوں جس پر ثمر نہیں آتے
نہ جانے کون سی کشتی نگل گیا دریا
کہ اس کے بعد سے اس میں بھنور نہیں آتے
یہ کیسے برف کے حجرے میں بس گیا ہوں میں
کسی کی دھوپ کے ٹکڑے ادھر نہیں آتے
ترے خیال کی کیسی ہے رہ گزر جس میں
پہاڑ آتے ہیں لیکن شجر نہیں آتے
کہاں ہیں کون سی دنیا میں گم ہیں وہ بچے
کہ جن کو یاد کبھی اپنے گھر نہیں آتے
یہ کیسے دیر و حرم ہیں کہ جن کی چھت پر اب
محبتوں کے پرندے نظر نہیں آتے
تجھی کو کاٹ کے بے شکل کر گئے ساحلؔ
وگرنہ درد کے دھارے کدھر نہیں آتے