اپنی سانسوں سے ہم ڈرے کتنے
Lokesh Kumar Singhاپنی سانسوں سے ہم ڈرے کتنے
زندگی کے لئے مرے کتنے
دوستی پیار ظرف ہمدردی
ہم نے دیکھے ہیں کٹگھرے کتنے
یہ جو کھوٹے ہیں بستیوں کے ہیں
لوگ جنگل کے تھے کھرے کتنے
قہقہہ ایک بھی نہ کٹ پایا
میرے آنسو تھے بھونتھرے کتنے
کیسی بارش ہوئی ہے اب کے برس
پیڑ مرجھا گئے ہرے کتنے
کتنی چکنی سماعتیں ہیں یہاں
شعر میرے ہیں کھردرے کتنے
ہم کو تو تشنگی کا نشہ ہے
کوئی اب جام بھی بھرے کتنے
ایک صحرا سا رہ گیا ساحلؔ
ابر دریا پہ ہی جھرے کتنے