جستجوئے بہار کرتا ہوں

Paikar Jafari

جستجوئے بہار کرتا ہوں

دل کو خود شرمسار کرتا ہوں

ان کے وعدہ کا اعتبار نہیں

پھر بھی میں انتظار کرتا ہوں

جوش دیوانگی بڑھا اتنا

اپنے دامن کو تار کرتا ہوں

تم کو ہوں گے عزیز گل بوٹے

میں تو خاروں سے پیار کرتا ہوں

کہہ دو بجلی سے اب ٹھہر جائے

آشیاں کا حصار کرتا ہوں

اب قرار آئے گا نہ پیکرؔ کو

آ اجل انتظار کرتا ہوں