اترتی کیوں یہ ساری جا رہی ہے

Lokesh Kumar Singh

اترتی کیوں یہ ساری جا رہی ہے

کہاں میری خماری جا رہی ہے

نظر نیچی کیے پھرتے ہیں بھونرے

کلی کی شرمساری جا رہی ہے

ٹھہاکوں میں ہوئے تبدیل آنسو

شب فرقت گزاری جا رہی ہے

عجب مورکھ ہو سیرت دیکھتے ہو

ابھی صورت نکھاری جا رہی ہے

کہاروں کی جگہ دکھتی ہیں خوشیاں

دکھوں کی وہ سواری جا رہی ہے

بڑے چھوٹوں سے بچ کے چل رہے ہیں

پرانی پاسداری جا رہی ہے

لگیں جس کی زمانہ بھر کو نظریں

نظر اس کی اتاری جا رہی ہے

میاں ہم بھی تو پیچھے ہی پڑے ہیں

یہاں ہاتھوں میں چھالے ہو گئے ہیں

وہاں قسمت سنواری جا رہی ہے

بگڑ مت دیکھ بس چپ چاپ ساحلؔ

ندی کس کس پہ واری جا رہی ہے