آئنہ پھر نکھر گیا ہے کیا

Lokesh Kumar Singh

آئنہ پھر نکھر گیا ہے کیا

میرا چہرہ اتر گیا ہے کیا

پھر نشاں پیٹھ پر نیا ابھرا

پھر کوئی دوست مر گیا ہے کیا

کب سے موسم ہے سرد راتوں کا

میرا سورج گزر گیا ہے کیا

دل کی یادیں ہے سب قرینے سے

تو یہ بچہ سدھر گیا ہے کیا

کب سے اختر شمار ہیں آنکھیں

کوئی سپنا بکھر گیا ہے کیا

کیوں گماں ہے مرے یقیں پہ تمہیں

کوئی وعدہ مکر گیا ہے کیا

کتنا ویران سا ہے اب ساحلؔ

کام سیلاب کر گیا ہے کیا