سوز دل سوز جگر سوز الم پایا ہے

Paikar Jafari

سوز دل سوز جگر سوز الم پایا ہے

جو بھی پایا ہے ترے عشق میں کم پایا ہے

سر جھکا جاتا ہے ہر گام پہ سجدے کے لئے

ہر جگہ جیسے ترا نقش قدم پایا ہے

جتنا جی چاہے مرے حال پہ دنیا ہنس لے

میں نے حصے میں فقط رنج و الم پایا ہے

پھول ہنستے ہیں تو روتی ہے چمن میں شبنم

اک نے پائی ہے خوشی ایک نے غم پایا ہے

کھل گیا راز ترے درد نہاں کا پیکرؔ

آج آنکھوں میں تری اشک الم پایا ہے