یوں تو محروم کوئی بزم میں مے خوار نہیں

Paikar Jafari

یوں تو محروم کوئی بزم میں مے خوار نہیں

ہاں مگر میری طرف چشم فسوں کار نہیں

ناصحا میں بھی تری طرح نہ بکتا کیا کیا

وہ تو کہیے کہ میں دیوانہ ہوں ہشیار نہیں

حسن رنگیں کے تصور نے جلا دیں شمعیں

ہر طرف نور برستا رہے شب تار نہیں

مرنے والے کی محبت کے تھے منکر کل تک

آج اقرار ہی اقرار ہے انکار نہیں

لیجئے لیجئے وہ ڈوب گئی نبض مریض

آئیے آئیے اب آپ کا بیمار نہیں

اس نے ٹھکرا دیا صد حیف یہ کہہ کر پیکرؔ

ایک ٹوٹے ہوئے دل کا میں خریدار نہیں