کسی کی خامیوں کا تذکرہ نہیں کرتے

Madhu Madhuman

کسی کی خامیوں کا تذکرہ نہیں کرتے

یوں اپنے آپ کو چھوٹا کیا نہیں کرتے

سفر میں کتنے ہی لوگوں سے ہم یوں ملتے ہیں

سبھی سے ہی تو مگر دل ملا نہیں کرتے

ہمیں بھی درد تو ہوتا ہے بے رخی سے تری

یہ اور بات ہے کہ ہم گلہ نہیں کرتے

اسی میں بہتری ہے سادھ لیجئے چپی

ندی میں رہ کے مگر سے لڑا نہیں کرتے

کبھی تو مان لیا کیجئے ہمارا بھی

ہر ایک بات پہ اتنا اڑا نہیں کرتے

ضرور کوئی تو ہوتی ہے خاصیت ان میں

یوں ہی تو لوگ دلوں میں بسا نہیں کرتے

یہ مشکلیں بھی ضروری ہیں راہ میں مدھومنؔ

بغیر دھوپ کے تو گل کھلا نہیں کرتے