چراغ دل جلایا کس لئے ہے شام سے پہلے

Paikar Jafari

چراغ دل جلایا کس لئے ہے شام سے پہلے

خوشی اچھی نہیں ہے عشق میں انجام سے پہلے

گزرنا تو شب فرقت کا یا رب غیر ممکن ہے

تڑپنا دل کا کہتا ہے نمود شام سے پہلے

حدود محفل عشرت میں رکھیں گے قدم اک دن

ذرا مانوس تو ہو لیں غم آلام سے پہلے

مجھے ساقی سے الفت ہے نہیں ساغر کا شیدائی

اٹھا جاتا ہوں خود محفل سے دور جام سے پہلے

ڈھلا دن اور مرے دل کی بڑھیں بے چینیاں پیکرؔ

جگر کو تھام لیتا ہوں میں درد شام سے پہلے