Poetry
Poet
Meter
- کوئی پاؤں سفر میں رکھموسم کو بستر میں رکھPaikar Yazdani
- گزرے ہے دل پہ جو وہ کہیں کیا کسی سے ہماپنوں میں ہو کے رہ گئے اک اجنبی سے ہمPaikar Yazdani
- نہیں اپنے تو بیگانے بہت ہیںجہاں میں آئنہ خانے بہت ہیںPaikar Yazdani
- ہنستے ہنستے کہہ دی باتتم نے آخر کڑوی باتPaikar Yazdani
- رنگ و نسل و مذاہب کا اعلیٰ چمنہند میرا وطن ہند میرا وطنPaikar Yazdani
- آئے ہیں بادہ نوش بڑی آن بان پرمیلہ لگا ہے پیر مغاں کی دکان پرپیر شیر محمد عاجز
- بہار آئی کر اے باغباں گلاب قلمکہ لکھے وصف رخ یار کی کتاب قلمپیر شیر محمد عاجز
- ترے ابرو پہ بل آیا تو ہوتاذرا غیروں کو دھمکایا تو ہوتاپیر شیر محمد عاجز
- جاتا ہے کون آپ سے جلاد کی طرفکھینچا اس آب و دانہ نے صیاد کی طرفپیر شیر محمد عاجز
- غنچے کو ہے ترے دہن کی حرصسیب کو ہے ترے ذقن کی حرصپیر شیر محمد عاجز
- نہ تو میں حور کا مفتوں نہ پری کا عاشقخاک کے پتلے کا ہے خاک کا پتلا عاشقپیر شیر محمد عاجز
- ہے خاک بسر صبا مرے بعدگلشن کی پھر ہوا مرے بعدپیر شیر محمد عاجز
- کون کہتا ہے تم ادا نہ کروپر وفا کی جگہ جفا نہ کروپیر شیر محمد عاجز
- اگرچہ ہتھیار سے ہیں ڈرتے مگر ارادے بڑے بڑے ہیںملے ہمیں تخت ورنہ تختہ ہم اپنی اس بات پر اڑے ہیںرنجور عظیم آبادی
- تہہ و بالا جہاں کو کر رکھا ہے اپنی اودھم سےسوا اس کے کہیں ہم کیا خدا ہی سمجھے ویلیم سےرنجور عظیم آبادی
- دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغاف ایک میرا سینہ ہے اس پر ہزار داغرنجور عظیم آبادی
- سودائے سجدہ شام و سحر میرے سر میں ہےاے بت کشش کچھ ایسی ترے سنگ در میں ہےرنجور عظیم آبادی
- میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سےکب اس کی توقع مجھے بے بال و پری سےرنجور عظیم آبادی
- ہو رہے ہیں نت نئے قانون جاری ان دنوںچل رہی ہے دل پہ عالم کے کٹاری ان دنوںرنجور عظیم آبادی
- یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کےکہ اس کی پتلیوں سے آ رہا ہے نور چھن چھن کےرنجور عظیم آبادی
- جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلےتماشے کو عجب کیا وہ بت دمباز آ نکلےرنجور عظیم آبادی
- اس بت کی زباں پر لو انورؔ پھر آج تمہارا نام آیاکیا جذب محبت جاگ اٹھا کیا جوش جنوں پھر کام آیاS. Nooruddin Anwar Bhopali
- تری نگاہ کے قابل نہیں تو کچھ بھی نہیںیہ دل خدا کی قسم دل نہیں تو کچھ بھی نہیںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- عشق میں چور بھی ہوں پیروئے منصور بھی ہوںیعنی میں طور بھی ہوں برق سر طور بھی ہوںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- لپٹ کر سو رہا ہوں لذت درد محبت سےیہ عشرت بعد مردن خاک میں ملتی ہے قسمت سےS. Nooruddin Anwar Bhopali
- مزہ الم میں نہیں لطف سوز جاں میں نہیںسبب یہ ہے کہ تپش پردۂ فغاں میں نہیںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- نہ کوئی نغمہ ہوں نہ ساز خوش نوا ہوں میںشکست شیشۂ دل کی مگر صدا ہوں میںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- نہ لائے دیکھنے کی تاب جلوہ دیکھنے والےتماشا بن گئے خود ہی تماشا دیکھنے والےS. Nooruddin Anwar Bhopali
- ہے میرے سامنے تصویر چشم یار ہنوزمیں پی رہا ہوں مئے حسن بار بار ہنوزS. Nooruddin Anwar Bhopali
- دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہےہم نے دیکھا ہے تو اے شوخ جہاں رہتا ہےشیر محمد خاں ایمان
- دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گااپنی ہی آنکھوں سے اب خون بہا لیجئے گاشیر محمد خاں ایمان
- عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیںارض و سما کا اس کو ہم نور جانتے ہیںشیر محمد خاں ایمان
- قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہےکیوں کر ادا ہو عمر کا رشتہ قلیل ہےشیر محمد خاں ایمان
- کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گاایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گاشیر محمد خاں ایمان
- مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہمپھر بھلا دل کے نکالیں کس طرح ارمان ہمشیر محمد خاں ایمان
- یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھاقیمت میں جس کی پھر وہی شاہی کا تخت تھاشیر محمد خاں ایمان
- پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھےجنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھےشیر محمد خاں ایمان
- آنکھوں میں لے کے یاس مجھے دیکھنے تو دےکون آ رہا ہے پاس مجھے دیکھنے تو دےTabassum Anwar
- ٹوٹے آئینے کو کیا گھر میں سجانا اچھاروح کے گھاؤ کو دنیا سے چھپانا اچھاTabassum Anwar
- کسی بھی در کی سوالی نہیں رہی ہوگیجھکی جو عشق کے در پر جبیں رہی ہوگیTabassum Anwar
- مجھ سے ملنے میرے خیمے میں چلی آتی ہے گرددشت وحشت میں فقط میری ملاقاتی ہے گردTabassum Anwar
- مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہےجدھر چلوں نگہ طرح دار ناچتی ہےTabassum Anwar
- نہ رعب جاہ میں آ کر کسی سے گفتگو کیجو ہم نے کی تو پھر اپنی خوشی سے گفتگو کیTabassum Anwar
- وہ کم آمیز مجھ سے ہم سخن ہونے لگا ہےبہ یک لحظہ یہ دشت دل چمن ہونے لگا ہےTabassum Anwar
- یہ چیخیں یہ آہ و بکا کس لیے ہےمرے شہر کی یہ فضا کس لیے ہےTabassum Anwar
- آساں ہے کسی نہر کا پتھر سے نکلناآساں نہیں ان کا دل مضطر سے نکلناUma Shankar Shadan Gwaliori
- راز غم افشا کروں یا راز رکھوں راز میںحکم ہو تو کچھ سناؤں آپ کی آواز میںUma Shankar Shadan Gwaliori
- کعبے کا پتہ اور کلیسا کا نشاں اوریہ کیا کہ وہی بات یہاں اور وہاں اورUma Shankar Shadan Gwaliori
- مجھ کو ڈر ہے کہیں ایسا دل ناکام نہ ہوعشق آغاز ہی آغاز ہو انجام نہ ہوUma Shankar Shadan Gwaliori
- مرا خیال پریشاں ہے میرا گھر تنہانہ جائیے مجھے ایسے میں چھوڑ کر تنہاUma Shankar Shadan Gwaliori