یہ تمنا ہے کہ میں حرف وفا ہو جاؤں
Lokesh Kumar Singhیہ تمنا ہے کہ میں حرف وفا ہو جاؤں
میری باتیں رہیں بے شک میں فنا ہو جاؤں
میرے کردار سے اچھائی کی خوشبو آئے
ہر برائی کے لیے میں تو برا ہو جاؤں
سب کو بیدار کروں اوم کی آواز سے میں
وہ جو آتی ہے اذاں سے وہ صدا ہو جاؤں
جس میں تہذیبوں کے گل ساتھ کھلا کرتے تھے
پھر مرے ملک کی وہ آب و ہوا ہو جاؤں
وہ جو ہجرت کے سبب چھوڑ گئے ہیں گھر کو
انہی بچھڑے ہوئے اپنوں کا پتہ ہو جاؤں
اسی امید پہ دن کاٹ دیے ہیں میں نے
زندگی میں تری راتوں کا دیا ہو جاؤں
روٹھ کر پھر سے چھپوں گھر کے کسی کونے میں
اک کھلونے کے لئے سب سے خفا ہو جاؤں
جو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں وہ پنچھی سن لیں
کل نئی رت میں پھلوں سے نہ لدا ہو جاؤں
ریت کے گھر جو بناتے ہیں یہاں ساحل پر
انہی معصوم سے بچوں کی دعا ہو جاؤں