نظر کو وقف غم انتظار کر نہ سکے

Paikar Jafari

نظر کو وقف غم انتظار کر نہ سکے

خود اپنی ذات پہ ہم اعتبار کر نہ سکے

نظر اٹھی تو گلوں تک ہی رہ گئی محدود

نظر کو مائل رنگ بہار کر نہ سکے

فریب حسن سے اس کو نہ کیوں کروں تعبیر

زباں سے کہتے رہے دل سے پیار کر نہ سکے

قفس میں آیا تو موسم بہار کا لیکن

نگاہ شوق کو وقف بہار کر نہ سکے

حریم ناز کے پردے اٹھے مگر پیکرؔ

جنوں کے مارے ہی خود انتظار کر نہ سکے