دور دنیا سے تیرگی ہوگی

Ibrahim Faiz

دور دنیا سے تیرگی ہوگی

دل جلے گا تو روشنی ہوگی

کشمکش وہ بھی کشمکش پیہم

اور کیا شرح زندگی ہوگی

خون دل ہے کہ پی رہے ہیں ہم

اب نہ ہونٹوں پہ تشنگی ہوگی

بارہا تم نے دل کی دھڑکن میں

میری آواز بھی سنی ہوگی

کام آ جائے گر محبت میں

زندگی فیضؔ زندگی ہوگی