بے خودی آج رنگ لائی ہے

Paikar Jafari

بے خودی آج رنگ لائی ہے

بات دل کی زباں پہ آئی ہے

عمر بھر خون میں نہائی ہے

زندگی کتنی راس آئی ہے

ان کے زانو پہ نیند آئی ہے

موت کتنی حسین پائی ہے

پھول گلشن میں مسکرائے ہیں

آپ کی یاد جب بھی آئی ہے

کچھ دلوں کی تباہیوں کو نہ پوچھ

موت انسانیت پہ چھائی ہے

اب قدم لڑکھڑائے جاتے ہیں

جیسے منزل قریب آئی ہے

بس اسی کا مقام ہے جنت

زندگی جس نے خود بنائی ہے

عرش سے دو قدم وہ ہے آگے

اس نے منزل مری بتائی ہے

تیرہ بختی میں غیر ہی نے نہیں

دوستوں نے ہنسی اڑائی ہے