اے غم تجھی سے کیوں نہ خوشی مستعار لوں

Ibrahim Faiz

اے غم تجھی سے کیوں نہ خوشی مستعار لوں

دو دن کی زندگی ہے تو ہنس کر گزار لوں

ممکن نہیں کہ مل سکے یہ جنس بے بہا

میں ورنہ دل کو بیچ کے دل کا قرار لوں

اے زلف ناز تیرا تقاضا بجا مگر

پہلے غم حیات کے گیسو سنوار لوں

کانٹوں کو اپنے خون جگر سے نکھار کر

کیوں تجھ سے انتقام نہ فصل بہار لوں