شب وصل ہم مختصر دیکھتے ہیں

Paikar Jafari

شب وصل ہم مختصر دیکھتے ہیں

ادھر آنکھ جھپکی سحر دیکھتے ہیں

مریض محبت کی ہو خیر یا رب

یہ رہ رہ کے کیوں چارہ گر دیکھتے ہیں

پئے پرسش غم کوئی آ رہا ہے

ہم آہوں کا اپنی اثر دیکھتے ہیں

ہمیں یاد آتا ہے صحن گلستاں

جو زنداں کے دیوار و در دیکھتے ہیں

ہر اک شے میں ہے تیرے جلوؤں کا پرتو

تجھے صاف اہل نظر دیکھتے ہیں

تصور جو ہے زلف و عارض کا ان کی

بہ یک وقت شام و سحر دیکھتے ہیں

اثر کر چلی ہے مری آہ پیکرؔ

انہیں آج نزدیک تر دیکھتے ہیں