کیوں نہ تڑپا دے جہاں کو سوختہ جانوں کی بات
Ibrahim Faizکیوں نہ تڑپا دے جہاں کو سوختہ جانوں کی بات
مضطرب کرتی ہے انسانوں کو انسانوں کی بات
دل شکستہ حوصلے حیراں نگاہ آرزو
زندگی کو راس کب آئی صنم خانوں کی بات
تیرگیٔ گیسوئے ہستی کا عالم کیا کہیں
دل ہی دل میں گھٹ کے رہ جاتی ہے ارمانوں کی بات
عام ہوتا جا رہا ہے قصۂ جام و سبو
کھل رہی ہے اہل دل پر آج پیمانوں کی بات
اب نکھرتے جا رہے ہیں عارض حسن حیات
ہو رہی ہے سرخ رو خوں گشتہ ارمانوں کی بات
تشنگی لو دے رہی ہے آرزوئے زیست کو
ڈھل رہی ہے آگ کے شعلوں میں پیمانوں کی بات
تیرگیٔ دہر میں عیش و طرب کی داستاں
فیضؔ ویرانے میں ہو جیسے گلستانوں کی بات