دل کے سب ارمان گئے

Ibrahim Faiz

دل کے سب ارمان گئے

گھر کے سب مہمان گئے

داغ تمنا زخم جگر

راحت کے سامان گئے

ہم کو تھا دنیا سے گلہ

آپ برا کیوں مان گئے

کل تک تو پہچان ہی تھی

آج تمہیں ہم جان گئے

فیضؔ خفا ہیں دیر و حرم

کس کو خدا تم مان گئے