کیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میں

Lokesh Kumar Singh

کیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میں

بھر چکے زخم کی دوا ہوں میں

جس کی خواہش ہی گمرہی ٹھہری

خواہشوں کا وہ قافلہ ہوں میں

کیوں مجھے گھیر کر کے بیٹھے ہو

اے غمو آدمی برا ہوں میں

یہ جو بدنام خط ہیں ان کا ہی

لوگ کہتے ہیں حاشیہ ہوں میں

آخری حرف ہوں تبسم کا

اور اشکوں کی ابتدا ہوں میں

یہ مری زندگی بتائے گی

کتنی قسطوں میں کب مرا ہوں میں

آج کی شام گھر نہ لوٹوں گا

صبح اکثر یہ سوچتا ہوں میں

ساری دنیا کو ہے خیال مرا

کس تغافل کا سلسلہ ہوں میں

جس کی خود کی ہی کوئی ٹھور نہیں

ایک ایسا ہی آسرا ہوں میں

وہ جو چیخوں میں ہو گئی تبدیل

گونگی بہری وہی سدا ہوں میں

اس کا لہجہ اکھر رہا ہے کیوں

کیا اسے چاہنے لگا ہوں میں

جب سے اماں نے رخصتی لی ہے

چاند کو پہروں دیکھتا ہوں میں

کیوں ہے اجڑا ہوا مرا ساحلؔ

کس سمندر کی بد دعا ہوں میں