Poetry
Poet
Meter
- نہ حرم کی مجھ کو ہے جستجو نہ تو رہ گزر کی تلاش ہےجہاں سر جھکا کے ملے سکوں اسی سنگ در کی تلاش ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
- برسر روزگار تھے پہلےہم بھی یاروں کے یار تھے پہلےFaheem Amrohvi
- تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہےتم نہ ہو تو یہ زندگی کیا ہےFaheem Amrohvi
- دن تو جوں توں چلو گزر جائےنگھرا رات میں کدھر جائےFaheem Amrohvi
- ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دےگویا سحر میں شام کا منظر دکھائی دےFaheem Amrohvi
- رات کٹی ہے روتے روتےغم کا بوجھا ڈھوتے ڈھوتےFaheem Amrohvi
- سوچتا ہوں کدھر گئے ہم لوگجی رہے ہیں کہ مر گئے ہم لوگFaheem Amrohvi
- غم کی گر چاشنی نہیں ہوتیزندگی زندگی نہیں ہوتیFaheem Amrohvi
- ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاںبات وہ ہے جو ان کہی ہے میاںFaheem Amrohvi
- بتاؤں کیا شب فرقت میری کیسے سنورتی ہےکبھی تو ہوک اٹھتی ہے کبھی رو رو گزرتی ہےGham Bijnori
- تجھے کیا بتاؤں اے دل ربا ترے سامنے مرا حال ہےمجھے جستجو ہے فقط تری مجھے صرف تیرا خیال ہےGham Bijnori
- دوستی حسن و محبت میں مگر ہوتی ہےزندگی خار کی پھولوں میں بسر ہوتی ہےGham Bijnori
- کسی صورت مقدر سے پریشانی نہیں جاتیحقیقت وہ حقیقت ہے کہ جو جانی نہیں جاتیGham Bijnori
- کسی کے بھول جانے سے محبت کم نہیں ہوتیمحبت غم تو دیتی ہے شریک غم نہیں ہوتیGham Bijnori
- کہیں بھی جاؤں پر مجھ کو سکون دل نہیں ملتانہیں ملتا مجھے وہ نقشۂ قاتل نہیں ملتاGham Bijnori
- لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میںاک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میںGham Bijnori
- مرا یہ جذبۂ دل کم نہیں ہےمری حسرت میں اب تک خم نہیں ہےGham Bijnori
- درد بھی اس نے دیا عشق کے پیغام کے ساتھپی لیا زہر ہلاہل مئے گلفام کے ساتھHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- دلوں سے جب دور ہوگی نفرت نظر نظر میں خوشی ملے گیجہاں سے تاریکیاں مٹیں گی قدم قدم روشنی ملے گیHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- کچھ غم زیست کے آلام ابھی باقی ہیںزندگی تیرے لئے کام ابھی باقی ہیںHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- کس قدر میلا دل کا درپن ہےآدمی آدمی کا دشمن ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- محو حیرت ہوں کہ آخر یہ تماشہ کیا ہےصبح خود پوچھ رہی ہے کہ اجالا کیا ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- نمود صبح پر یوں اعتبار شام آتا ہےکہ جیسے بعد فصل گل خزاں کا نام آتا ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- اردو ہمارے دیش کی شیریں زبان ہےتہذیب کی ہے وضع شرافت کی جان ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- دھرم و جاتی واد کے جھگڑے مٹا کر ایک بارآؤ ہم مل کر محبت سے گلے سب سے ملیںHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہراجو چاہے پڑھ لے ہمارا چہرا کتاب ٹھہراHabeeb Saifi
- برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلےرہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلےHabeeb Saifi
- فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتےکہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتےHabeeb Saifi
- کبھی جب مل کے رہتے تھے وہ صحبت یاد آتی ہےہمیں اپنے بزرگوں کی شرافت یاد آتی ہےHabeeb Saifi
- کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھاترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھاHabeeb Saifi
- کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگاہوا گر کچھ مرے حق میں صلہ تدبیر کا ہوگاHabeeb Saifi
- لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیںملی کیا محبت میں جاگیر دیکھیںHabeeb Saifi
- یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہکرے گا بے وفا بھی اب وفا آہستہ آہستہHabeeb Saifi
- تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہےدنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہےہجر ناظم علی خان
- ستم تیر نگاہ دل ربا تھاہمارے حق میں پیغام قضا تھاہجر ناظم علی خان
- شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہاکہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہاہجر ناظم علی خان
- کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہامجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہاہجر ناظم علی خان
- وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گاتو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گاہجر ناظم علی خان
- وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوںکیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوںہجر ناظم علی خان
- دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیااک مجھ سے کیا جہان سے بیگانہ ہو گیاہجر ناظم علی خان
- مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھایہ ایک چال تھی ان کی یہ اک بہانا تھاہجر ناظم علی خان
- پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شرابمجھ کو بد نام کرے گی ہوس جام شرابحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکیمرے مدعا پر نہیں ہو چکیحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیادل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیاحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گیموت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گیحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئےہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئےحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- گداز دل سے پروانہ ہوا خاکجیا بے سوز میں تو کیا جیا خاکحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہوکتنا ہی درد دل ہو مگر چشم تر نہ ہوحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہواگر جاں ہو عزیز اپنی تو جاناں پر فدا کیوں ہوحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- اپنا رستہ بدل کے دیکھ تو لوتم مرے ساتھ چل کے دیکھ تو لوIbrahim Faiz