اس کے کھلتے ہی ہر اک سمت اجالا ہوگا

Lokesh Kumar Singh

اس کے کھلتے ہی ہر اک سمت اجالا ہوگا

یہ تبسم ہے اسے درد نے پالا ہوگا

جس نے بچپن سے ہی دولت کا چلن دیکھا ہو

اس کا انداز زمانہ سے نرالا ہوگا

ہم کو موجوں سے الجھنے کا ہنر آتا ہے

ہم کو منجدھار نے خوش ہو کے اچھالا ہوگا

جس کی راتیں ہوں کٹیں برف کے صحراؤں میں

اس کے تلووں میں تو خوابوں میں بھی چھالا ہوگا

جس کی ہر بات تجھے تیر سی چبھ جاتی ہے

وہ بہرحال ترا چاہنے والا ہوگا

تو تو انسان ہے صندل کا کوئی پیڑ نہیں

تو نے کس طور سے سانپوں کو سنبھالا ہوگا

جن کو آتا ہے ادب میں بھی سیاست کرنا

ان کے کاندھوں پہ ہی ریشم کا دشالہ ہوگا