جسم کے اس غار میں دکھتا ہے سب
Lokesh Kumar Singhجسم کے اس غار میں دکھتا ہے سب
ریت کے انبار میں دکھتا ہے سب
چاندنی کا نور سورج کا غرور
مجھ کو میرے یار میں دکھتا ہے سب
ٹوٹتی امید مرتا حوصلہ
ڈھ رہی دیوار میں دکھتا ہے سب
موت کے در زندگی کا انتظار
دیکھیے بیمار میں دکھتا ہے سب
آئنے سارے ہٹا کر رکھ دئے
گھر کی ہر دیوار میں دکھتا ہے سب
ہر سفر منزل سے کتنا دور ہے
وقت کی رفتار میں دکھتا ہے سب
زندگی کی کیا انا سے جنگ تھی
اس پھٹی دستار میں دکھتا ہے سب
قربتیں رشتہ محبت دوستی
آج کل بازار میں دکھتا ہے سب
ہوں بہت گم صم بہت چپ چاپ پر
برف کے انگار میں دکھتا ہے سب
سب چھپا لیتی ہے دل کش گفتگو
ہاں مگر کردار میں دکھتا ہے سب
ان کو تو ساحلؔ سے سب کچھ چاہیے
اور ہمیں منجدھار میں دکھتا ہے سب