چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی
Madhu Madhumanچمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی
ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی
ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں
ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی
بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے
چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی
بھلا اب زندگی میں دیکھنے کو کیا رہا باقی
جو بھاتا تھا ہمیں وہ ہر نظارہ لے گیا کوئی
لگے گی پار کیسے ناؤ اب یہ خدا جانے
اسے منجدھار میں رکھ کر کنارہ لے گیا کوئی
بدل دیتا تھا جو مینڈک کو اک راجہ کی صورت میں
جہاں سے اب وہ جادو کا پٹارا لے گیا کوئی
دل بیتاب کو مدھومنؔ قرار آئے بھی تو کیسے
سکوں تو چھین کر ہم سے ہمارا لے گیا کوئی