ہم نے خود کو کبھی بیزار نہیں ہونے دیا

Madhu Madhuman

ہم نے خود کو کبھی بیزار نہیں ہونے دیا

اپنی امید کو مسمار نہیں ہونے دیا

اپنے جذبات کا اظہار نہیں ہونے دیا

زندگی کو کبھی اخبار نہیں ہونے دیا

مشکلیں لاکھ ملیں راہ میں ہم کو لیکن

اپنے کردار کو لاچار نہیں ہونے دیا

ہم نے نقصان اٹھا کر بھی نبھائے رشتے

پیار کے جذبے کو بیوپار نہیں ہونے دیا

ہم جو بستر پہ پڑے کون سنبھالے گا ہمیں

بس اسی فکر نے بیمار نہیں ہونے دیا

اپنے بچوں کو سہولت کی ہر اک شے دے کر

ہم نے خود ان کو سمجھ دار نہیں ہونے دیا

خواب دیکھا تھا کبھی ہم نے بھی مدھومنؔ کوئی

پر مقدر نے وہ ساکار نہیں ہونے دیا