یہ تو ممکن نہ تھا وفا کرتے
Habeeb Jaunpuriیہ تو ممکن نہ تھا وفا کرتے
آپ مل کر بھی مجھ سے کیا کرتے
ڈر گئے برق کی چمک سے کلیم
بات تو جب تھی سامنا کرتے
آ تو جاتے کہ وقت آخر تھا
میرے مرنے ہی کی دعا کرتے
نہ ملے وہ نہ حسرتیں نکلیں
کٹ گئی عمر مدعا کرتے
ہجر محبوب کا علاج تو تھا
زخم حسرت کی کیا دوا کرتے
جو ہیں نا آشنائے حرف وفا
وہ کسی سے کہاں وفا کرتے
ان کے آنے سے میں نہ جی جاتا
رسم دنیا تو وہ ادا کرتے
خلق کی یہ صدا بھی سن لو حبیبؔ
سفر دشت کربلا کرتے