یوں تو کہنے کو مرے خون کے پیاسے ہیں سبھی

Kaifi Sanbhali

یوں تو کہنے کو مرے خون کے پیاسے ہیں سبھی

سر قلم کون کرے گا کہ نہتے ہیں سبھی

کل جو مسجد میں گئے ہم تو یہ محسوس ہوا

ایک ہم ہی ہیں گنہ گار فرشتے ہیں سبھی

اب یہ کیوں میری زباں کاٹ رہے ہو صاحب

تم تو کہتے تھے کہ اس شہر میں گونگے ہیں سبھی

قد بڑھا دے مرا یا شاخوں کو نیچا کر دے

جس قدر پھل ہیں مرے ہاتھ سے اونچے ہیں سبھی

خود کو اب بیچنے نکلو گے تو جاؤ گے کہاں

جتنے بازار میں سکے ہیں وہ کھوٹے ہیں سبھی