مرا غم گسار کوئی نہیں کسی لب پہ آئی دعا نہیں

Jagjeewan Lal Asthana sahar

مرا غم گسار کوئی نہیں کسی لب پہ آئی دعا نہیں

مرے چارہ گر ترے پاس بھی مرے درد دل کی دوا نہیں

کبھی ساتھ ساتھ ہے تو مرے کبھی دور تک بھی پیا نہیں

مرے ہم سفر تری دوستی کا یہ راز کیا ہے کھلا نہیں

تری آرزو مری زندگی تری جستجو مری بندگی

تری یاد میری نماز ہے کوئی کام اس کے سوا نہیں

وہی بے خودی وہی سر خوشی وہی بے ہوشی وہی گمرہی

مجھے آپ اپنی تلاش ہے میں کہاں ہوں مجھ کو پتا نہیں

یہ تو اپنا اپنا خلوص ہے یہ تو اپنا اپنا سلوک ہے

کوئی چاہنے سے گرا نہیں کوئی پوچھنے سے اٹھا نہیں

تجھے مانگنے سے ملے گا کیا ترا سر جھکانے سے ہوگا کیا

یہ تو پتھروں کا جہان ہے یہاں کوئی تیرا خدا نہیں

میں خزاں نصیب سدا رہا میں بھری بہار میں لٹ گیا

مجھے راس آئی نہ زندگی مجھے مل کے کچھ بھی ملا نہیں

نہ تو اب خوشی کی تلاش ہے نہ سکون کی مجھے آرزو

یہی زندگی کا ہے فیصلہ کہ خوشی بھی غم کے سوا نہیں

وہ نفس نفس میں خلش تری وہ ترے خلوص کی بے رخی

تجھے ہر قدم یہی خوف ہے ترا غم تو مجھ سے جدا نہیں

وہی دل میں ہے وہی لب پہ ہے وہی آنسوؤں میں رواں دواں

اسے کیسے بھولوں سحرؔ بتا جو مرے نفس سے جدا نہیں