وقت اپنا ہو تو طوفان و بلا کچھ بھی نہیں
Jagjeewan Lal Asthana saharوقت اپنا ہو تو طوفان و بلا کچھ بھی نہیں
برق گرنے کو گری اور ہوا کچھ بھی نہیں
میں نے اک عمر گزاری ہے تری فرقت میں
کیا مقدر میں مرے اس کے سوا کچھ بھی نہیں
صرف ہاتھوں کو اٹھانے کا نتیجہ کیا ہے
ہو سلیقہ نہ دعا کا تو دعا کچھ بھی نہیں
جانے بھر جاتے ہیں کس طرح گلوں سے دامن
میرے دامن میں تو کانٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں
بات زخموں کی کہو کرب کی تشریح کرو
اب محبت کے فسانے میں رہا کچھ بھی نہیں
درد و غم آہ و فغاں سوز نہاں اشک رواں
دوستو اس کے سوا میرا پتا کچھ بھی نہیں
چند سکوں کے لئے شوق سے بک جاتے ہیں
آج کے دور میں انساں کی انا کچھ بھی نہیں
روشنی جتنی تھی سب لوٹ لی اندھیاروں نے
اب اجالوں میں سحرؔ اور بچا کچھ بھی نہیں