جس کا مجھے ارماں ہے وہ اکثر نہیں ملتا

Habeeb Jaunpuri

جس کا مجھے ارماں ہے وہ اکثر نہیں ملتا

میں ہوش میں ہوں اور مجھے گھر نہیں ملتا

انسان سے رخصت ہوا معیار فضیلت

دستار تو لاکھوں ہیں مگر سر نہیں ملتا

پیشانیاں ڈھونڈیں تو کہاں اپنا ٹھکانہ

سجدوں کا جو مرکز تھا وہی در نہیں ملتا

جو چاہے سنے ہے یہ مرے قلب کی آواز

جو حق ہے مرا سب کے برابر نہیں ملتا

جب تک طلب صبر تھی دل نے نہ دیا ساتھ

اب ذوق ستم ہے تو ستم گر نہیں ملتا

سر پھوڑنا چاہوں بھی تو پتھر نہیں ملتا

تم کو تو حبیبؔ اس نے صدا دی ہے کئی بار

ایسا تو کسی کو بھی مقدر نہیں ملتا