مجھ کو کہتا ہے مسکرانے کو

Jagjeewan Lal Asthana sahar

مجھ کو کہتا ہے مسکرانے کو

جانے کیا ہو گیا زمانے کو

مجھ کو طوفان کیا ڈبو سکتا

دل ہی چاہا تھا ڈوب جانے کو

اپنی ہی داستاں سمجھ بیٹھی

سن کے دنیا مرے فسانے کو

بزم میں تیری ہم چلے آئے

از سر نو فریب کھانے کو

ہم جھکا کر جبین شوق اپنی

خود بلا لیں گے آستانہ کو

ہم چھڑکتے رہے لہو اپنا

آشیاں میں بہار لانے کو

تری یادوں نے رہروی کی ہے

جب بھی چاہا تجھے بھلانے کو

اشک بن کر چراغ آتے ہیں

مری پلکوں پہ جگمگانے کو

میں سحر بن کے آ گیا ہوں سحرؔ

دہر سے تیرگی مٹانے کو