مانند ہوا پل میں گزر جائے گا کوئی

Ghamgeen Qureshi

مانند ہوا پل میں گزر جائے گا کوئی

آئے نہ اگر آپ تو مر جائے گا کوئی

یہ رات کا سناٹا اداسی کا یہ عالم

اس حال میں دیوانے سے ڈر جائے گا کوئی

ناکام تمنا کو یوں ہی جلنے دو ورنہ

چھیڑوگے جو تم راکھ بکھر جائے گا کوئی

پہلی ہی ملاقات بڑھا دے گی محبت

معلوم نہ تھا دل میں اتر جائے گا کوئی

زندہ ہوں اسی آس پہ غمگینؔ میں اب تک

اک روز مرے زخم کو بھر جائے گا کوئی