خطۂ ارض پہ کیا شان ہے تیری اردو

Habeeb Jaunpuri

خطۂ ارض پہ کیا شان ہے تیری اردو

تو مری زیست کا ارمان ہے میری اردو

تجھ کو بخشا گیا دنیا میں معلیٰ کا خطاب

تو وہ جوہر ہے کہ تیرا نہیں دنیا میں جواب

گلشن دہر میں موجود ہے خوشبو کی طرح

تو ہے صحرائے خیالات میں آہو کی طرح

تیری عظمت کوئی اشرفؔ کی زباں سے پوچھے

نفس مضموں ترا خسروؔ کے بیاں سے پوچھے

یوں تو کہنے کو وطن ہے ترا یہ بر صغیر

مگر اے لیلاے‌ٔ جاں تیرا ہر اک دل ہے اسیر

تجھ پہ نازاں تھی قلی قطبؔ کے جذبات کی رو

کبھی دلی تو کبھی لکھنؤ پہنچی تری ضو

تجھ کو اعزاز عجب شاہجہاں نے بخشا

لطف شائستگی سوداؔ کی زباں نے بخشا

آ گیا دل میں ترے میرتقی میرؔ کا سوز

دے گیا درد کی لذت تجھے دلگیرؔ کا سوز

مومنؔ و ذوقؔ کے افکار تجھے راس آئے

ذہن غالبؔ کے خیالات ترے پاس آئے

آ گیا تیرے کف دست میں عالم کا ضمیر

کر گئے تجھ کو سرافراز انیسؔ اور دبیرؔ

داغؔ نے تجھ کو دیئے عشق کے انداز نئے

فکر اقبالؔ سے کیا کیا نہ ملے راز نئے

جوشؔ کی شعلہ بیانی نے تجھے دی وسعت

آرزوؔ کی ہمہ دانی نے تجھے دی وقعت

کر گیا تجھ کو بلند آل رضاؔ کا اسلوب

دے گیا لہجۂ نو فیضؔ کا دھیما اسلوب

شادی و غم میں تجھے یاد کیا کرتے ہیں

تیری آواز میں فریاد کیا کرتے ہیں