شب فراق کو یوں جگمگا رہا ہوں میں
Jagjeewan Lal Asthana saharشب فراق کو یوں جگمگا رہا ہوں میں
بجھا کے شمع کو اب دل جلا رہا ہوں
خیال یار کو دل میں بسا رہا ہوں میں
تصورات کی دنیا سجا رہا ہوں میں
غم حیات غم دل کا لطف پانے کو
اجل کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں
عجیب حال ہے شاخوں سے پھول جھڑتے ہیں
بھری بہار میں آنسو بہا رہا ہوں میں
یہ راز فاش نہ ہو جائے آنسوؤں سے کہیں
تمہارے غم کو تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں
نہ لب پہ کوئی شکایت نہ دل ہے فریادی
تمہاری بزم سے خاموش جا رہا ہوں میں
اٹھاؤ ساز ملاؤ دلوں کے تاروں کو
نئی حیات کے نغمے سنا رہا ہوں میں
وصال و ہجر کا عالم عجیب عالم ہے
فسانہ شب کا سحرؔ کو سنا ہوں میں